سری نگر ، 26؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پرانے شہر کے علاقے میں علیحدگی پسندوں کی عید گاہ تک مجوزہ ریلی کے پیش نظر کشمیر کے کئی علاقوں میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔گزشتہ ماہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے جاری تشدد کی وجہ سے وادی میں آج مسلسل 49ویں دن بھی کرفیو جاری رہنے سے عام زندگی بری طرح متاثر ہے۔ایک پولیس افسر نے بتایاکہ پورے سری نگر ، پلوامہ ضلع اور جنوبی کشمیر کے شوپیاں اور اننت ناگ شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ، پتن اور ہندواڑہ میں بھی کرفیو لگادیا گیا ہے جبکہ باقی وادی میں لوگوں کے ایک جگہ پر جمع ہونے پر پابندی عائد ہے۔علیحدگی پسندوں نے جمعے کی نماز کے بعد پرانے شہر علاقے کے عید گاہ میدان میں ایک ریلی کا منصوبہ بنایا تھا ، جسے ناکام کرنے کے لیے کرفیو کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔وادی میں مسلسل 49دن سے جاری کرفیو ، پابندیو ں اور علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہے۔دوکانیں، نجی دفاتر ، تعلیمی ادارے اور پٹرول پمپ بند ہیں اور سڑکوں سے عوامی گاڑیوں غائب ہیں۔افسر نے بتایا کہ کرفیو کی وجہ سے سرکاری دفاتر اور بینکوں میں ملازمین کی حاضری بھی متاثر ہوئی ہے۔پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی ٹھپ ہیں اور پری پیڈ موبائل فون کی آؤٹ گوئنگ کال کی سہولیات پر بھی روک ہے۔وانی کی ہلاکت کے بعد ہوئے پر تشدد مظاہروں میں شہریوں کی موت کو لے کر علیحدگی پسند وادی میں تحریک چلا رہے ہیں اور انہوں نے یکم ستمبر تک کے لیے وادی میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ جنوبی کشمیر میں اننت ناگ ضلع کے کوکیرناگ علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہوئے تصادم میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی موت کے ایک دن بعد 9 ؍جولائی سے شروع ہوئے مظاہروں میں اب تک 2 پولیس اہلکار سمیت کل 66لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔